نئی دہلی، 8 /نومبر(آئی این ایس انڈیا/ ایس او نیوز) جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کی ماں نے آج وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے ملاقات کی جنہوں نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے لخت جگر کو تلاش کرنے کے معاملے میں وہ مداخلت کریں گے۔واضح رہے کہ نجیب 15/اکتوبر سے لاپتہ ہے۔جے این یومیں اسکول آف بایو ٹیکنالوجی کے طالب علم نجیب کی ماں فاطمہ نفیس اور خاندان کے دیگر ارکان نے وزیر داخلہ سے اس کا پتہ لگانے کی درخواست کی۔وہ اتر پردیش کے بدایوں کے رہنے والے ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ وزیر داخلہ نے غورسے نجیب کی والدہ اور خاندان کے دیگر ارکان کی بات سنی۔سنگھ نے انہیں بتایا کہ دہلی پولیس نے اس معاملے میں خصوصی ٹیم تشکیل دی ہے اور وہ خود ذاتی طور پر تحقیقات میں پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ وزیر داخلہ نے سبھی طرح کی مددمہیا کرانے کی یقین دہانی کرائی۔نجیب کے اہل خانہ کے ساتھ گئے بدایوں سے ایس پی ممبر پارلیمنٹ دھرمیندر یادو نے کہا کہ وزیر داخلہ نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جلد سے جلد اس کا پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔یادو نے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ اگر پولیس ان کا پتہ نہیں لگا پاتی ہے تو ہم عدالت جائیں گے اور پارلیمنٹ میں مسئلہ اٹھائیں گے۔نجیب کی بہن نے ان الزامات کو مسترد کردیا کہ وہ ذہنی طور پر غیر مستحکم ہے اورکہا کہ اس کا پتہ لگانے کے بجائے اسے بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ یونیورسٹی کے امتحانات میں پاس ہوا ہے۔وہ ایک محنتی طالب علم ہے۔آپ کیا سوچتے ہیں جو شخص ایسے ممتاز ادارے میں پڑھ رہا ہے وہ ذہنی طور پر غیر مستحکم ہو سکتا ہے؟ میں سبھی سے گزارش کرتی ہوں کہ براہ کرم اسے بدنام نہ کریں، ہاں اسے نیندکم آتی ہے اور پڑھنے والے بچوں میں اکثر ذہنی الجھن کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے، اسے کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔